بنگلورو،27؍نومبر(ایس او نیوز)5دسمبرکوکرناٹک بندکی آوازکوکانگریس پارٹی کی جانب سے تائیدنہیں ہے۔یہ وضاحت کرناٹک پرد یش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی)کے کارگزارصدرستیش جارکی ہولی نے کی۔
انہوں نے بیلگاوی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہاکہ مراٹھا طبقہ کی بہبودی کی خاطرقائم کئے جارہے مراٹھاڈیولپمنٹ اتھارٹی سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔عین ضمنی انتخابات سے قبل سیاسی فائدہ کے لیے اتھارٹی کے قیام کے ہم مخالف ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ریاستی بجٹ میں اتھارٹی کے قیام کااعلان کیاجاناچاہئے تھا،ضمنی انتخابات سے قبل کیوں اعلان کیاگیایہ ہماراسوال ہے۔ بجٹ میں ہوتوایک واضح اتھارٹی کے قیام سے فائدہ ہوتاہے۔فی الحال حکومت سے جاری مختلف اسکیموں کے پیسہ نہیں ہے توپھرنئی اتھارٹیوں کے لیے کہاں سے پیسہ لایاجائے گا۔
انہوں نے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ بی جے پی میں کون وزارت حاصل کرے گا اورکون وزیراعلیٰ بنے گا؟ اس کا تعلق ہم سے نہیں ہے۔ہمیں بس پارٹی کی تنظیم کاری مطلوب ہے۔بیلگاوی ضلع کے لیے سب سے زیادہ وزراء اوربورڈاورکمیشنوں میں سب سے زیادہ نمائندگی پرتبصرہ کرتے ہوئے ستیش جارکی ہولی نے کہاکہ ضلع کی ترقی کے معاملہ میں بی جے پی قوت خودارادیت سے عاری وخالی ہے۔ستیش جارکی ہولی ریاست میں زیادہ سرگرم ہیں،ا س لیے انہیں قومی سیاست میں بھیجے جانے کے سوال پرانہوں نے کہاکہ قومی سیاست میں جانے سے مزیدکنٹرول حاصل ہوتاہے۔
اس موقع پرانہوں نے کہاکہ دیکھاجائے گا کہ ہائی کمان سے کیافیصلہ ہوتاہے۔ بیلگاوی لوک سبھاکے ضمنی انتخابات میں ستیش جارکی ہولی کی امیدواری سے متعلق کئے گئے سوال پرانہوں نے کہاکہ اس الیکشن میں حصہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے۔ریاست میں پارٹی تنظیم کاری کے کام بہت زیادہ ہیں۔کانگریس میں امیدواروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔امیدوارکے انتخاب کے سلسلہ میں دسمبرپہلے ہفتہ میں دوسرے راؤنڈکا اجلاس ہوگا۔تین امیدواروں کے ناموں کی سفارش ہائی کمان سے کی گئی ہے۔